ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورونا کا قہر اور ملت کی حالت زار؛ شہر بنگلور و اور ریاست کے بڑے ملی ادارو ں کی طرف متاثرین کی امید بھری نظر

کورونا کا قہر اور ملت کی حالت زار؛ شہر بنگلور و اور ریاست کے بڑے ملی ادارو ں کی طرف متاثرین کی امید بھری نظر

Thu, 06 May 2021 10:29:04    S.O. News Service

بنگلورو،6؍مئی(ایس او  نیوز)ریاست کرناٹک خاص طور پر شہر بنگلورو میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کے ساتھ ساتھ ریاست کے ناقص ہیلتھ انفراسٹرکچر کی صورتحال بھی سامنے آ رہی ہے۔ اس حالت میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کے رشتہ دار اسپتالوں میں ایک ایک بستر، ایک ایک آکسیجن سلنڈر اور ایک ایک آئی سی یو بستر کے لئے گڑگڑانے پر مجبورہو چکے ہیں۔

ریاستی حکومت نے ان لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے صاف طور پر اپنے ہاتھ کھڑے کردئیے ہیں کہ احتیاط برت کر کورونا سے بچو یا پھر علاج کے لئے اپنا انتظام کرلو۔ کہیں آکسیجن کی قلت کے سبب اموات ہور ہی ہیں تو کہیں بستریا آئی سی یو نہ ملنے کے سبب لوگ تڑپ تڑپ کر سڑکوں پر یا گاڑیوں میں ہی دم توڑ رہے ہیں۔ بہت سارے لوگ تو گھروں میں ہی ا س مہلک وباء کا شکار ہو کر دم توڑ رہے ہیں۔ اللہ تعالی نے انسانیت کو اس قدر سنگین آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اس کا سامنا کرنے میں متاثرین کی مدد کرنے کے لئے کورونا کی پہلی لہر کے دوران مختلف ادارو ں،انجمنوں، سیاست دانو ں اور سماجی کارکنوں نے جس غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، بدقسمتی سے اس بار وہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ خاص طور پر مسلم معاشرے میں اکا دکا اداروں اور مٹھی بھر مخیر حضرات کو چھوڑ کر کسی حلقہ سے ایسی کوئی ہلچل اس بار ندارد ہے۔ بحران کی اس گھڑی میں ملت کی نظریں کرناٹکا اسٹیٹ بور ڈ آف اوقاف پر ٹکی ہوئی ہیں۔ جہاں وقف بورڈ کے چیف ایکزی کیوٹیو آفیسر کی طرف سے تمام اواقاقی اداروں کو ایک سرکیولر جاری کیا گیا کہ وہ کورونا کے اس بحران میں کھل کرخدمات انجام دیں اوراپنے ادارو ں کے تحت آنے والی املاک میں کووڈ کیر سنٹر، ٹسٹنگ،ویکسی نیشن آکسیجن اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کریں۔

ریاستی سطح  پر وقف بورڈ ایک نمائندہ ادارہ ہے۔ جس طرح کی جنگی صورتحال کا سامنا ہے اس میں وقف بورڈ کے ممبران اور عہدیداروں کو میدان میں اترکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف دفتروں میں بیٹھ کر سرکیولر جاری کر دینے سے یا وقف اداروں کو کوئی گائیڈ لائین جاری کردینے سے نہیں میدان عمل میں آگے آکر کام کر نے سے انسانیت کا بھلا ہو سکتا ہے۔اسی طرح ہمارے علمائے کرام کی طرف بھی ملت ا و ر پوری انسانیت آس کی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ یہی وہ وقت ہے کہ علمائے کرام بھی میدان عمل میں آکر اسلام کے پیغام انسانیت کو دنیا کے سامنے عملی شکل میں پیش کریں۔ دین کے شرعی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کے پہلوکو بھی انسانیت کے سامنے پیش کریں۔ ملت کو جس کرب سے گزرنا پڑ رہا ہے اس ماحول میں اسے تسلی دینے اورحوصلہ بڑھانے کے لئے علماء کو آگے بڑھ کر کام کرنا چاہئے۔ اس سرکیولر کے بعد بنگلورو کی سطح پر حضر ت حمید شاہ محب شاہؒ درگاہ کے علاوہ کوئی وقف ادارہ سامنے نہیں آیا ہے۔جبکہ رضاکار ادروں میں مرسی مشن کی جانب سے غیر معمولی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔شہر بنگلورو میں سنٹرل مسلم اسوسی ایشن، مجلس ملیہ، یتیم خانہ اہل اسلام اور دیگر بڑے بڑے مسلم ادارے موجود ہیں کورونا کے اس بحران میں مسلم معاشرہ ان ادارو ں کی طرف مدد کے لئے امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ کیا اس بار ان اداروں کی طرف سے کورونا کی اس خوفناک لہر اورلاک ڈاؤن کی زد میں آ کر کنگال ہونے والے غریب اور مستحق عوام کے لئے مد د کا کوئی انتظام ہو سکتا ہے۔ اگر ان اداروں کے ذمہ دار اس امر پر غورکریں تو اس سے ملک وملت کی کافی مدد ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی بڑے اداروں اور انجمنوں کو چاہئے کہ اس ضرورت کی گھڑی میں غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کی مدد کریں۔ضرورت کی اس گھڑی میں اگر تمام اداروں نے متاثرین کا ہاتھ تھاما تو یقینا اس سے کافی فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اگر ان اداروں نے کنارہ کشی کر لی تو پھر سوال ضرور اٹھیں گے کہ ان اداروں نے قوم اورملک کے لئے ضرورت کی گھڑی میں مدد کرنے کی بجائے کیوں اپنی ذمہ داریوں سے دامن جھاڑ لیا۔ ان اداروں کے ذریعے کووڈ کیر سنٹرو ں کے قیام، آکسیجن کی فراہمی، کووڈ ٹیسٹنگ اور ویکسین دینے کے لئے انتظامات حکومت کی نگرانی میں آسانی سے کئے جا سکتے ہیں۔ اداروں کے ذمہ داروں سے یہی توقع ہے کہ وہ اس پہلو پر ضرور غور کریں گے۔


Share: